علاقائی، قومی اور عالمی سطحوں پر خواتین میں اب یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ صنعت، حکومت، تعلیم، انجینئرنگ، صحت وغیرہ جیسے شعبوں کی قیادت میں ان کی نمائندگی بھی موجود ہے۔ خواتین اب ان تمام روایتی حدود سے آگے نکلنے کے لئے پرعزم ہیں جن کی وجہ سے وہ صلاحیت اور مہارت ہونے کے باوجود بھی قیادت کے عہدوں…
آج کے اس دور میں بھی ہمارا معاشرہ اسی مفروضے پر چل رہا ہے کہ جہاں تک سماجی مرتبے کی بات ہے تو خواتین ہر حال میں مردوں سے مختلف ہیں۔ قوانین، جن کے تحت خواتین کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں، وہ مردوں اور عورتوں کے لئے ایک جیسے نہیں ہیں۔ کہنے کی حد تک قوانین عورتوں کو برابر…
ایک سچائی جو پاکستانی معاشرے کی جڑوں تک رچی بسی نظر آتی ہے، وہ یہ ہے کہ عورت ہمیشہ محض اس بناء پر کمتر اور ماتحت رہتی ہے کہ وہ عورت ہے۔ مردانہ سوچ ہمارے معاشرے کی رگ رگ میں بسی ہے جس کے تحت طے شدہ سی بات ہے کہ عورت کی قسمت کا ہر فیصلہ مرد کے ہی…
مختلف طاقتور طبقات ہر دور میں اپنی اپنی سیاسی اشرافیہ تخلیق کرتے رہے ہیں۔ رینالڈز اور ٹیلر رابنسن جیسے اہل علم کا کہنا ہے کہ کابینہ کوئی بھی ہو، اس میں خواتین کی تعداد عام طور پر برائے نام رہی ہے اور جو لوگ اس مرتبے پر فائز ہوتے رہے ہیں ان کے حصے میں زیادہ تر “نسوانی خصوصیات اور…
لوگ کہتے تھے اکیسویں صدی میں دنیا بدل جائے گی، حقوقِ نسواں کا ایک بالکل نیا رخ ہمیں دیکھنا نصیب ہو گا۔ اب پتہ چل رہا ہے کہ اصل میں عدم مساوات کے رنگ ڈھنگ بدل گئے ہیں۔ پہلے سے زیادہ وسائل اب خواتین کی پہنچ میں اور ان کے کنٹرول میں ہیں، بعض اہم عہدوں پر خواتین فائز ہو…
پاکستان میں ایک شعبہ ایسا ہے جس میں تحریکِ نسواں یا خواتین کی تحریک بڑی حد تک کامیاب رہی ہے اور وہ ہے خواتین کی سیاسی شمولیت۔ عائشہ خان نے 2018 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ‘The Women’s Movement in Pakistan: Activism, Islam and Democracy’ میں بحیثیت مجموعی خواتین کے مسئلے پر بات کی ہے لیکن زیرِنظر تحریر میں…
خواجہ سرا برادری، پاکستان میں خاصی نمایاں تعداد میں موجود ہے۔ ان میں معاشرے کے سبھی طبقات سے تعلق رکھنے والے اور کم سن بچوں سے لے کر ستر سالہ بزرگوں تک، ہر عمر کے افراد شامل ہیں۔ نسلی اور مذہبی وابستگی کے اعتبار سے دیکھیں تو تقریباً ہر نسل، ذات، مذہب اور عقیدے کے لوگوں میں خواجہ سرا موجود…
الیکشن ایکٹ (2017)، خواتین کو بطور ووٹر یا امیدوار، انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کی کسی بھی کوشش کی ممانعت کرتا ہے۔ ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتیں، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات میں کم ازکم پانچ فیصد خواتین امیدوار نامزد کرنے کی پابند ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں تمام بڑی قومی جماعتیں اس کم سے کم…
خواتین کی خودمختاری ایک پیچیدہ تصور ہے جو مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس کی نئی تعریفیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مطلب ہے مختلف مادی وسائل تک خواتین کی بہتر رسائی۔ ان وسائل میں بہت سی چیزیں شامل ہیں مثلاً اراضی، پیسہ، قرضے کی…
ہمارے ہاں کتنی خواتین ایسی ہوں گی جن کے ذہن میں کبھی خیال آیا ہو کہ وہ کسی انتخاب میں حصہ لیں یا کسی سیاسی عہدے کے لئے انتخابی مہم چلائیں؟ جن معاشروں میں جمہوری عہدے اور نشستیں کچھ مخصوص گھرانوں کے “ہونہار سپوتوں” کو تحفے کی طرح پیش کئے جاتے ہوں، اور جہاں عام حالات میں خواتین کے لئے…
