10 دسمبر 2019 کو اٹک میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں اقلیتوں کو یکساں انسانی حقوق دینے کے حق میں اپنی بھرپور آواز بلند کر کے جنّت حسین  سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ اُن کا شمار پاکستانی بیوروکریسی  کی سرگرم شخصیات میں ہوتا ہے۔ انسانوں کے حقوق ہوں یا پھر حیوانوں کے، وہ پاکستان میں ترقی پسندانہ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پُرعزم دکھائی دیتی ہیں۔  چنیوٹ سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون پاکستان میں حقوقِ نسواں کی بھرپور حامی ہیں اور ایک سرکاری  افسر ہونے کے ناطے وہ حقوق ِنسواں کے لئے زوردوار آواز بلند کر رہی ہیں۔ گلف نیوز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ، “میں نے اس جذبے کے ساتھ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں شمولیت اختیار کی کہ پاکستانی معاشرے کی فلاح وبہبود میں اپنا حصہ بقدر جُثّہ ادا کر سکوں۔ لڑکیوں کی تعلیم، صحت اور غذائی خدمات کی فراہمی میں بہتری، انسانی وقار اور برابری، ماحول پر ہونے والی بحث اور سب کی سماجی شمولیت، جیسے موضوعات میرے دل کے قریب ہیں”۔

پاکستان میں ابھی کرونا وائرس کے صرف دو مریض سامنے آئے تھے کہ اٹک ان اضلاع کی صف میں شامل ہو چکا تھا جہاں حفاظتی اقدامات شروع کر دئیے گئے۔ جنّت نیکوکارہ یہاں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر تھیں اور محکمہ صحت کے حکام کے ساتھ مل کر انہوں نے ایران سے آنے والے زائرین کی سکریننگ کا کام شروع کر دیا۔ اقلیتوں کے حقوق پر ان کے تاثرات پر اگرچہ انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن ایک فلاحی معاشرے کے قیام کے سلسلے میں اپنی کوششوں کی بدولت وہ دیگر سرکاری افسران کے لئے ایک مثال بن گئیں۔ جنّت حسین وہ خاتون ہیں جن پر پاکستان کو فخر ہے۔ وہ پاکستانی بیورو کریسی کا ایک جزوِ لازم ہیں۔ پاکستان میں لاتعداد ایسی خواتین ہیں جو انسانیت کی خدمت کے ذریعے اپنا آپ منوانے کی خواہشمند ہیں لیکن ہماری سماجی اساس بعض اوقات اُن کے اس خواب کی تکمیل میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرنا ہو گی جس میں جنّت حسین جیسے لوگوں کو پذیرائی ملے تاکہ فلاحی ریاست کی ان بنیادوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔

Leave a comment

Skip to content