اسسٹنٹ کمشنر، کوئٹہ

کوئٹہ میں “دبنگ لیڈی” کے طور پر مشہور ندا کاظمی، اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اُن کا تعلق کوئٹہ سے ہے اور اُن کا اپنا خاندان بھی دہشت گردی کا شکار بن چکا ہے۔ 2005 میں دہشت گردی کے ایک حملے نے اُن کے والد کو ہمیشہ کے لئے ان سے جدا کر دیا۔ وہ گھر کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔ تمامتر مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور ڈائریکٹر آپریشنز، بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے طور پر سول سروس میں شمولیت اختیار کر لی۔ اگرچہ کوئٹہ کے گھر گھر میں ان کے چرچے سننے کو ملتے ہیں، لیکن انتظامی مہارتوں کی بات ہو یا کرونا وائرس کی وباء کے دوران ایک خاتون افسر کی حیثیت سے ان کا بااختیار کردار، وہ صف اول کی رہنما کے طور پر اُبھر کر سامنے آئی ہیں۔

کوئٹہ میں کرونا وائرس کے بارے میں آگاہی کی سرگرمیوں میں وہ پیش پیش رہی ہیں۔ اِس دوران اُنہوں نے نہ صرف آگاہی بڑھانے پر زور دیا بلکہ کوئٹہ میں مکمل لاک ڈاؤن پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا۔ وباء کے دوران وہ ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے مسلسل سرگرمِ عمل رہیں۔ شہر میں مہنگا پٹرول، گوشت اور دیگر اشیائے خوردونوش  مہنگے داموں فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں انہوں نے کئی آپریشنز کی قیادت کی اور اس دوران کرونا وائرس کے خلاف ذاتی حفاظتی اقدامات  کی بھی پرواہ نہ کی۔ وہ حقوقِ نسواں، سب کے لئے برابر مواقع اور سب کی شمولیت کی بھرپور حامی ہیں۔ ندا کاظمی نہ صرف کوئٹہ کا افتخار ہیں بلکہ پورا پاکستان ان پر فخر کرتا ہے۔ ‘ویمن اِن الیکشنز’ (ڈبلیو آئی ای) کوئٹہ میں کرونا وائرس کی وباء کے روک تھام کے سلسلے میں اُن کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور اُن کی تمامتر کوششوں میں کامیابی کے لئے دعاگو ہے۔

Leave a comment

Skip to content