ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا نام اب کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔ سماجی تحفظ اور تخفیفِ غربت پر وزیرِاعظم کی خصوصی معاون کئی لحاظ سے انتہائی اعلیٰ پائے کی لیڈر ہیں۔ اپنی زندگی میں اُنہوں نے جو بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں، کوئی بھی انسان اُن کا محض خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔ سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی تنظیموں سمیت ہر طرح کے منفرد تجربے کی بدولت وہ پاکستان کے موجودہ حالات میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

‘ہارٹ فائل’ کے نام سے ایک بلامنافع تنظیم کے آغاز کے بعد وہ پاکستان میں پالیسی سازی کے میدان میں اپنا ایک منفرد مقام بنا چکی ہیں۔ متعدد اہم عہدوں پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے بعد، اُنہوں نے پاکستان کی نگران حکومت میں وفاقی وزیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ اُنہوں نے پاکستان کی وزارتِ صحت میں انقلابی تبدیلیاں متعارف کرائیں جن کی بدولت پاکستان میں شعبہ طب کے ریگولیٹری ادارے میں اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی۔ پاکستان کے شعبہ صحت میں اصلاحات کے اولین منصوبے کی تشکیل و تصنیف، پاکستان میں شعبہ صحت کے اعدادوشمار کے پہلے مجموعی کی تیاری، اور غیرمتعدی امراض کے لئے صحت عامہ کا پہلا قومی منصوبہ ان کی چند قابل ذکر خدمات میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر اس وقت سماجی تحفظ و تخفیفِ غربت پر وزیراعظم کی خصوصی معاون اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ حکومت پاکستان کی جانب سے شروع کئے گئے پروگرام ‘احساس’ کی روحِ رواں ہیں جس کا مقصد غربت اور اس سے جڑے مسائل سے نمٹنا ہے۔ کرونا وائرس کی وباء کے باعث پاکستان میں بیروزگاری کا شکار ہونے والوں اور غریب افراد کے مالی تحفظ کے لئے حال ہی میں حکومت پاکستان نے احساس ایمرجنسی کیش کا آغاز کیا ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اس پروگرام پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں۔ گفت وشنید اور اتفاق رائے پیدا کرنے میں اپنی شاندار مہارتوں کی بدولت وہ وباء کے دوران کمزور طبقات کو تحفظ دینے کے لئے نئی اور منفرد پالیسیاں وضع کر رہی ہیں۔ سرکاری شعبے کی روزمرہ سرگرمیوں میں جدّت اور شفافیت یقینی بنانے کے لئے اُنہوں نے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اداروں کے نظام کو مضبوط بنایا ہے۔ اُن کی موجودہ سرگرمیاں محض تخفیفِ غربت کے گرد ہی نہیں گھوم رہیں بلکہ وہ  پاکستان میں صحتِ عامہ کے نظام کی بہتری کے لئے بھی مصروفِ عمل ہیں۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے جمہوری اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے لئے وہ سب کچھ کر رہی ہیں جو وہ کر سکتی ہیں۔ وہ ایک مثالی خاتون ہیں جو قیادت کرنے اور لوگوں کو نئی راہ دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، پاکستان کی پہچان ہیں اور دنیا کو پاکستان کا یہ رخ ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ اگرچہ اُن کا تعلق ایک ترقی پذیر ملک سے ہے لیکن وہ ترقی یافتہ دنیا کے لئے بھی ایک ایسی مشعلِ راہ کی مانند ہیں جو قائدانہ صلاحیتوں کی امین اور عوام کی حقیقی خدمت گار ہیں۔ ہمیں فخر ہے، اپنی ان خواتین پر!

Leave a comment

Skip to content