ایک وباء تو وہ ہے جس کے بارے میں آپ سب جانتے ہیں اور بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ اپنی جگہ یہ بھی ٹھیک ہے کہ اخبارات نے اس کی شہ سرخیاں لگائیں اور حکومتی رہنما سب کام چھوڑ کر اس کے پیچھے لگ گئے۔  کہیں اپنوں کا ساتھ نہ رہا تو کہیں ہمارے ہیروز نے اپنی جان پر کھیل کر جانیں بچائیں ، ہمسائے کو ہمسایوں سے خطرہ  رہا اور والدین نے اساتذہ کی جگہ سنبھال لی ۔ یہ وہ وباء ہے جو ہم سب کے سامنے ہے۔ لیکن ایک اوروباء بھی ہے جو تاریکی میں اپنا کام دکھاتی رہی ، اور ان کامیابیوں کو ملیامیٹ کرتی رہی، جو ہماری اس دنیا نے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران صنفی مساوات کے میدان میں حاصل کی تھیں۔ یہ تاریک وباء ہے صنفی عدم مساوات۔

اس تاریک وباء نے کہیں گھریلو تشدد کی شکل میں اپنا رنگ دکھایا  تو کہیں معاشی مندے کی صورت میں، یہ پہلے ایک شخص کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے، اور پھر اس کے ذریعے پورے گھرانے کو اپنا شکار بنا لیتی ہے اور ان کی صحت پر منفی اثرات دکھاتی ہے۔ باقی جو سارے بحران جابجا بکھرے ہیں، وہ اپنی جگہ، لیکن اس لاک ڈاؤن  کے ہاتھوں تاریکی اس حدتک بڑھ گئی کہ تاریکی نہ رہی، بلکہ ایک باقاعدہ شکل میں ہمارے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی، ایک حقیقت جسے آپ جھٹلا نہیں سکتے نہ بھلا سکتے ہیں۔ جھٹلا اس لئے نہیں سکتے کہ سب کچھ سب کے سامنے ہو رہا ہے، یہ بھی سب جانتے ہیں کہ کیا ہو گا اور کیا ہوتا رہا ہے، پھر بھی ہم سب اپنی اپنی جگہ اس طرح جی رہے ہیں جیسے چاروناچار اس کو قبول کر چکے ہیں۔ دوسری جانب بھلایا اس لئے نہیں جا سکتا کہ زخم ہمیشہ کے لئے اپنا نشان چھوڑ جاتے ہیں، بھلے دیکھنے پر نظر نہ آئیں، لیکن اتنے نمایاں اور اتنے واضح جیسے آپ خود ان سے گزر چکے ہوں اور یادیں ایسی کہ زندگی بھر بھلا نہ پائیں۔

لاک ڈاؤن اور قرنطینہ نے خواتین  پر کئی جان لیوا اثرات دکھائے۔ یہ پابندیاں اپنی جگہ ضروری تھیں لیکن ایک طرف انہوں نے بدسلوک شریک حیات کے دام میں الجھی خواتین کے لئے تشدد کا خطرہ کہیں زیادہ بڑھا دیا تو دوسری جانب وہ  سماج اور آس پاس سے بالکل کٹی ہوئی تھیں اور کہیں سے کوئی مدد حاصل کرنے کی بھی کوئی راہ دکھائی نہ دیتی تھی۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے بجا طور پر فرمایا کہ “ہم جانتے ہیں کہ کرونا وائرس کو ختم کرنے کے لئے لاک ڈاؤن اور قرنطینہ جیسی پابندیاں ضروری ہیں۔ لیکن ان کی وجہ سے خواتین، بدسلوک شریک حیات کے دام میں الجھ سکتی ہیں”۔ پھر ان خطرات نے نئی پیچیدگیاں اختیار کرنا شروع کر دیں کیونکہ بدسلوکی کرنےوالے اس بات کا فائدہ اٹھا رہے تھے کہ خواتین گھر سے باہر نہیں جا سکتیں، اپنے بال بچوں کی کفالت کے لئے کام نہیں کر سکتیں، یا کسی این جی او یا کسی دوسرے ادارے یا تنظیم سے مدد کے لئے رابطہ نہیں کر سکتیں کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاون خدمات فراہم کرنے والی تنظیموں کو بھی اپنی سرگرمیاں انتہائی محدود کرنا پڑیں۔

گھریلو تشدد کادوسرا پہلو اس کے معاشی اثرات ہیں۔ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ کرونا وائرس کی وباء نے خواتین کو درپیش معاشی عدم مساوات میں مزید بگاڑ پیدا کر دیا۔ زیادہ تر خواتین کم معاوضے والے کام یا ملازمتیں کرتی ہیں، جہاں کوئی مراعات نہیں ملتیں، مثلاً گھریلو کارکن کے طور پر یا دہاڑی دار مزدور کے طور پر، گلی میں ٹھیلا لگا کر یا کہیں کسی بیوٹی سیلون وغیرہ پر چھوٹی موٹی نوکری کر کے۔ ان نوکریوں پر معاوضہ بالکل کم ملتا ہے، قانونی تحفظ کوئی نہیں ہوتا اور سماجی تحفظ حاصل کرنے میں کئی مشکلات پیش آتی ہیں۔ عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او)  نے خدشہ ظاہر کیا کہ صرف تین ماہ کے عرصے میں بیس کروڑ کے لگ بھگ نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اسی طرح کی نوکریاں تھیں۔ چھوٹے چھوٹے کلینک اور ڈسپنسریاں وغیرہ بند ہو گئیں یاانہوں نے اپنے اوقات محدود کر دئیے جن میں مریضوں کی بہت کم تعداد کو ان کی خدمات میسر رہیں، لہٰذا، خواتین کے لئے صحت خراب ہونے کے خدشات دن بہ دن بگڑتے چلے گئے۔ خواتین پر کرونا وائرس کے اثرات کے حوالے سے اپنی پالیسی بریف میں آئی ایل او کا کہنا تھا کہ  “خواتین اور لڑکیوں کی صحت کی منفرد  ضروریات ہوتی ہیں، لیکن خدشہ ہے کہ انہیں صحت کی معیاری خدمات، ضروری ادویات اور ویکسین، زچہ و بچہ کی حفظان صحت کی خدمات، یا صحت کے معمول کے اخراجات یا کسی بیماری پر بیمہ کوریج، بالخصوص دیہی علاقوں اور محروم طبقات کے لئے، جیسی سہولتیں میسر نہیں ہوں گی”۔

بعض تحقیقی سرگرمیوں  کے مطابق دنیا بھر میں عملہ صحت میں تقریباً 70 فیصد خواتین شامل ہیں، جو وباء کے دوران ان خدمات کی بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کے لئے صف اول میں کام کر رہی تھیں۔ اس دوران ان کا واسطہ براہ راست متاثرہ مریضوں کے ساتھ پڑ رہا تھا اور مردوں کے مقابلے میں خواتین کو ذاتی حفاظتی سامان بھی میسر نہ تھا، لہٰذا، ان کے لئے خطرات مزید بڑھ گئے۔ حفاظتی سامان جہاں میسر تھا بھی تو یہ سٹینڈرڈ سائز میں بنا تھا جو عام طور پر مردوں کا سائز سمجھا جاتا ہے۔  اس لئے خواتین کی ضرورت پھر بھی پوری نہ ہوئی کیونکہ اکثر چیزیں بہت بڑی تھیں یا بہت زیادہ ڈھیلی ڈھالی۔ آئی ایل او کی اسی پالیسی بریف میں یہ بھی بتایا گیا کہ “فرنٹ لائن پر کام کرنے والی عملہ صحت کی خواتین کی صحت، نفسیاتی ضروریات اور ان کے کام کے ماحول پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جن میں مڈوائف، نرسیں، کمیونٹی ہیلتھ ورکر، اور مراکز صحت پر کام کرنے والا معاون عملہ، سب شامل ہیں”۔

ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگرچہ بعض لوگوں کے لئے حالات کچھ بہتر ہو گئے ہیں لیکن آج بھی ہم عدم مساوات کا شکار معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ لوگوں کو غربت سے نکالنے، رکاوٹوں کو دور کرنے، اور ایک دوسرے کو اپنی صلاحیتیں بھرپور انداز میں بروئے کار لانے کا موقع دینے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت باقی ہے۔ ان سرگرمیوں میں معاشی پہلوؤں اور فیصلہ سازی کو بھی شامل کرنا ہو گا۔ ایسے انتظامات، قاعدے، قوانین ہم سب کے لئے فائدہ مند ہوں گے جن میں نگہداشت کرنے والے افراد کی خدمات کو بھی تسلیم کیا جائے اور سب کی شمولیت پر مبنی ایسے معاشی ماڈل بناناہوں گے جن میں گھر پر کئے جانے والے کام کی بھی وقعت اور اہمیت ہو۔

معاشرے کو زیادہ مساویانہ اور مشکلات کے مقابلے کے قابل بنانے کے لئے ہمیں خواتین کے مفادات اور ان کے حقوق کو بھی پیش نظر رکھنا ہو گا، اور ان تمام پوشیدہ پہلوؤں پر کام کرنا ہو گا جو کرونا وائرس کی وجہ سے اب پوشیدہ نہیں رہے۔


تحریر: فزاء منال مظہر

Leave a comment

Skip to content