خواتین رہنما – WIE https://pakvoter.org/wie/ur Women in Elections Tue, 20 Apr 2021 05:00:12 +0000 ur hourly 1 https://wordpress.org/?v=6.1.1 https://pakvoter.org/wie/wp-content/uploads/2020/07/cropped-wie-favicon-32x32.png خواتین رہنما – WIE https://pakvoter.org/wie/ur 32 32 ہانا سوچوکا https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/hanna-suchocka/ https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/hanna-suchocka/#respond Tue, 20 Apr 2021 04:50:09 +0000 https://pakvoter.org/wie/?p=6654 The post ہانا سوچوکا appeared first on WIE.

]]>

ہانا سوچوکا، پولینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک سیاست دان ہیں جو 1992 سے 1993 تک پولینڈ کی پہلی خاتون وزیراعظم رہیں۔ وہ 3 اپریل 1946 کو پوزنان کے نزدیک پلیزیو میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ماہر دواسازی تھے۔وہ پوزنان کی ایڈم مکیوکز یونیورسٹی میں آئینی قانون کی طالبہ رہیں جہاں سے وہ 1968 میں فارغ التحصیل ہوئیں۔ وہ کیتھولک یونیورسٹی آف لوبلن اور مختلف دیگر مقامات پر قانون پڑھاتی رہیں۔  1980 میں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن بنیں جو اُس وقت پولینڈ کی پارلیمنٹ ‘سیم’ میں کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ اتحاد میں شامل تھی۔ 1981 میں انہوں نے مارشل لاء کے نفاذ کے خلاف احتجاج کیا اور 1984 میں انہیں یکجہتی کی ممانعت پر مبنی قانون کے خلاف ووٹ دینے پر ڈیموکریٹک پارٹی سے نکال دیا گیا۔

1989 اور 1991 میں وہ کمیونزم کے خاتمے کے بعد بننے والی پارلیمنٹ میں منتخب ہوئیں۔ اس موقع پر ان سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کی درخواست کی گئی کیونکہ وہ پولینڈ کی واحد سیاست دان تھیں جنہیں بنیاد پرست رومن کیتھولک جماعتوں اور پارلیمنٹ کے اعتدال پسند حلقوں، دونوں کا اعتماد حاصل تھا۔ سوچوکا کی ڈیموکریٹک یونین، کرسچن نیشنل یونین اور وسطی دائیں بازو کی لبرل ڈیموکریٹک کانگرس پر مشتمل تین بڑی جماعتوں کا اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

اگست 1992 میں ہانا سوچوکا کی حکومت کو کارخانہ سازی، ریل اور کوئلے کی صنعتوں میں احتجاجی مظاہروں کا سامنا تھا لیکن اس کے باوجود وہ قانون سازی کے میدان میں اس وقت کامیاب رہیں جب ایک آئینی ترمیم کے ذریعے ان کی حکومت کو پارلیمانی کارروائی کے بغیر ہی اپنی اقتصادی پالیسی نافذ کرنے کا اختیار مل گیا۔

ہانا سوچوکا سے امیدیں تھیں کہ وہ اپنی انتظامی صلاحیتوں کی بدولت پولینڈ کے روایتی حلقوں اور اصلاحات کے حامی ترقی پسند حلقوں کے درمیان توازن پیدا کرنے میں کامیاب رہیں گی لیکن اکتوبر 1993 میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب رہی اور والدیمار پالاک ان کی جگہ وزیراعظم بن گئے۔ بعد میں وہ 1997 سے 2001 تک وزیراعظم جرزی بوزیک کی کابینہ میں وزیر انصاف کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔ انہوں نے 2001 سے 2013 تک ‘ہولی سی’ کے لئے پولینڈ کی نمائندہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

The post ہانا سوچوکا appeared first on WIE.

]]>
https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/hanna-suchocka/feed/ 0
کم کیمبل https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/kim-campbell/ https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/kim-campbell/#respond Tue, 20 Apr 2021 04:49:00 +0000 https://pakvoter.org/wie/?p=6651 The post کم کیمبل appeared first on WIE.

]]>

کم کیمبل، کینیڈا کی سیاست دان ہیں جن کا اصل نام ایورل فیڈرا کیمبل ہے۔ وہ 10 مارچ 1947 کو برٹش کولمبیا کے علاقے پورٹ آلبرنی میں پیدا ہوئیں۔ وہ جون 1993 میں کینیڈا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں، البتہ ان کا دور اقتدار مختصر تھا جو نومبر کے مہینے میں ہی اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

کم کیمبل نے 1969 میں یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور لندن سکول آف اکنامکس میں سوویت نظام حکومت کا مطالعہ کیا۔ وہ چھ سال تک پولیٹکل سائنس پڑھاتی رہیں جس کے بعد انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں داخلہ لے لیا۔ 1983 میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ دو سال تک وینکوور میں قانون کی پریکٹس کرتی رہیں اور پھر سیاست کو کل وقتی کیریئر کے طور پر اپنا لیا۔

کم کیمبل، وینکوور سکول بورڈ کی رکن اور کچھ عرصے تک اس کی سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیتی رہیں۔ 1983 میں وہ برٹش کولمبیا سے سوشل کریڈٹ پارٹی کی جانب سے صوبائی مقننہ کی نامزدگی کے لئے امیدوار بنیں لیکن ناکام رہیں اور مئی 1986 میں انہیں سوشل کریڈٹ پارٹی کی صوبائی قیادت کے مقابلے میں بھی شکست ہوئی۔ اکتوبر 1986 میں وہ وینکوور سے سوشل کریڈٹ پارٹی کی امیدوار کی حیثیت سے صوبائی مقننہ کی رکن منتخب ہوئیں۔

دو سال بعد انہوں نے صوبائی سیاست میں قدم رکھا اور پروگریسو کنزرویٹو کی حیثیت سے فیڈرل پارلیمنٹ کی رکن بنیں۔ 1989 میں انہیں وزیراعظم برائن ملرونی کی جانب سے انڈین افیئرز اینڈ ناردرن ڈویلپمنٹ کی وزیر کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ 1990 میں وہ جسٹس منسٹر اور اٹارنی جنرل بنیں اور اپنی اس مدت کے دوران انہوں نے میدان سیاست میں کئی فتوحات حاصل کیں جن میں کینیڈا میں اسلحہ پر قابو پانے کے قوانین کا استحکام اور ریپ سے متعلق سخت قوانین کا نفاذ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

جنوری 1993 میں وزیر دفاع کے طور پر ان کی نامزدگی ایک طرح سے وزیراعظم برائن ملرونی کی جانب سے ان کے سیاسی مستقبل پر اعتمادکا اظہار تھا جس کے کچھ عرصہ بعد ہی خود برائن ملرونی نے میدان سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ جون 1993 میں پارٹی کنونشن کے دوران انہیں برائن ملرونی کی جانشینی کے لئے  منتخب کر لیا گیا اور یوں وہ کینیڈا کی پہلی خاتون وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئیں۔ نومبر میں پروگریسو کنزرویٹو پارٹی کو انتخابات میں عبرتناک شکست کے بعد کم کیمبل نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا (ان کی جماعت صرف دو نشستیں جیت پائی اور خود کم کیمبل بھی وینکوور سے منتخب ہونے میں ناکام رہیں)۔ اگلے ماہ وہ پارٹی لیڈر کے عہدے سے بھی مستعفی ہو گئیں۔

کم کیمبل میدان سیاست کو خیرباد کہنے کے بعد ہاورڈ یونیورسٹی کے جان ایف کینیڈی سکول آف گورنمنٹ کی فیلو ہیں۔ وہ 1996 سے 2000 تک لاس اینجلس میں کینیڈا کی قونصل جنرل بھی رہیں۔ اس کے بعد وہ ہاورڈ واپس آ گئیں اور کلب آف میڈرڈ کی سیکرٹری جنرل کے طور  پر خدمات انجام دیتی رہیں۔ یہ وہ تنظیم ہے جس کی بنیاد رکھنے والوں میں وہ بھی شامل تھیں جو سابق سربراہان مملکت پر مشتمل ہے اور دنیا بھر میں جمہوریت کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہے۔ کم کیمبل 2004 سے 2006 تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ وہ دیگر غیرسرکاری تنظیموں کی بھی رکن ہیں جن میں انٹرنیشنل کرائسس گروپ اور انٹرنیشنل سنٹر فار دی سٹڈی آف ریڈیکلائزیشن اینڈ پولیٹکل وائلنس بھی شامل ہیں۔ ان کی خودنوشت، ‘ٹائم اینڈ چانس’ کے نام سے 1996 میں شائع ہوئی۔

The post کم کیمبل appeared first on WIE.

]]>
https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/kim-campbell/feed/ 0
جینی شپلے https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/jenny-shipley/ https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/jenny-shipley/#respond Tue, 20 Apr 2021 04:40:49 +0000 https://pakvoter.org/wie/?p=6648 The post جینی شپلے appeared first on WIE.

]]>

جینیفر شپلے، “جینی” کے نام سے بھی مشہور ہیں جو 8 دسمبر 1997 کو جم بولگر  کا تختہ الٹنے کے لئے کی گئی ایک کارروائی کے بعد نیوزی لینڈ کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں اور 5 دسمبر 1999 تک اس عہدے پر فائز رہیں۔ جینیفر شپلے، 4 فروری 1952 کو نیوزی لینڈ کے شہر گورے میں پیدا ہوئیں۔ 1972 میں وہ کرائسٹ چرچ ٹیچرز کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد پرائمری سکول ٹیچر بن گئیں۔

وہ 1975 میں نیشنل پارٹی کی رکن بنیں اور 1987 میں پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئیں۔ 1990 سے 1993 تک وہ سماجی خدمات کی وزیر رہیں اور 1990 سے 1996 تک امور خواتین کی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔ 1996 میں انہیں سٹیٹ یوٹیلٹیز، ٹرانسپورٹ اور ریاست کے ملکیتی کاروباری اداروں کی وزیر بنا دیا گیا۔

1997 میں جم بولگر کی متنازعہ پالیسیوں اور کرپشن کے الزامات کی بناء پر ان کی قیادت کے خلاف بے چینی کے جذبات بڑھ رہے تھے اور ان حالات میں جینیفر شپلے نے ان کا تختہ الٹنے کی ایک تحریک کا آغاز کیا۔ جم بولگر تحریک عدم اعتماد کا خطرہ مول لینے کے بجائے نومبر 1997میں  وزیراعظم اور پارٹی لیڈر کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔ 8 دسمبر 1997 کو جینیفر شپلے نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

انہوں نے اپنے دور اقتدار میں ملکی قرضے کم کرنے، ٹیکس ضوابط کو سادہ بنانے، اور سماجی پروگراموں میں کمی لانے کے لئے کام کیا۔ اگست 1998 میں اکثریتی حکومت کا شیرازہ بکھرا تو جینیفر شپلے نے اعتماد کے ووٹ کا مطالبہ کر دیا تاکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ ان کی قیادت کو مقننہ کے ارکان کا اعتماد حاصل ہے۔ ستمبر 1998 میں ہونے والی یہ ووٹنگ نیوزی لینڈ میں اپنی طرز کا پہلا واقعہ تھی اور جینیفر شپلے انتہائی معمولی برتری کے ساتھ اس میں کامیاب رہیں۔ اگلے سال پھر انہیں اسی طرح کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس بار بھی وہ اپنا عہدہ بچانے میں کامیاب رہیں۔ 1999 کے انتخابات میں لیبر پارٹی کی ہیلن کلارک نے انہیں شکست سے دوچار کیا۔

جینیفر شپلے، 2001 تک نیشنل پارٹی کی قائد رہیں اور ان کے بعد یہ عہدہ بل انگلش نے سنبھالا۔ اگلے برس انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی لیکن ابھی بھی وہ کونسل آف ویمن ورلڈ لیڈرز اور کلب آف میڈرڈ سمیت مختلف غیرسرکاری تنظیموں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

The post جینی شپلے appeared first on WIE.

]]>
https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/jenny-shipley/feed/ 0
شیخ حسینہ https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/sheikh-hasina/ https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/sheikh-hasina/#respond Thu, 07 Jan 2021 04:59:32 +0000 https://pakvoter.org/wie/?p=5370 The post شیخ حسینہ appeared first on WIE.

]]>

شیخ حسینہ، 28 ستمبر 1947 کو ضلع گوپال گنج کے علاقے تنگی پارہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ بنگلہ دیش کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمان کی صاحبزادی ہیں۔

1981 میں شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش عوامی لیگ کی صدر منتخب کیا گیا۔ 1991  کے پارلیمانی انتخابات میں عوامی لیگ، بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ اپوزیشن رہنما کی حیثیت سے انہوں نے ہمیشہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی حکومت کی آمرانہ پالیسیوں کے خلاف بھرپور طریقے سے آواز بلند کی۔ حکومتی بدانتظامی کے خلاف ان کی زوردار تحریک نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی  کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے اور وقت سے پہلے انتخابات کرانے پر مجبور کر دیا۔

12 جون 1996 کو ہونے والے عام انتخابات میں عوامی لیگ نے بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور حکومت بنائی۔ شیخ حسینہ عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم بن گئیں۔

2001 کے انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی زیرقیادت چار جماعتوں کے اتحاد نے اکثریت حاصل کی اور شیخ حسینہ دوسری بار قائدِ حزب اختلاف بن گئیں۔ ان پر کئی بار قاتلانہ حملے کئے گئے، یہاں تک کہ 21 اگست 2004 کو اُن پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا، لیکن وہ نہ صرف محفوظ رہیں بلکہ اتحادی حکومت کی بدانتظامی کے خلاف اسی طرح زوردار انداز میں آواز بلند کرتی رہیں۔

29 دسمبر 2008 کے عام انتخابات سے پہلے دو سال تک عبوری حکومت کی شکل میں ایک سیاسی خلاء کا دور رہا جس کے بعد بنگلہ دیش کے عوام نے عوامی لیگ کی زیرقیادت گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کو عام انتخابات میں شاندار فتح سے ہمکنار کیا۔ شیخ حسینہ ایک بار پھر بنگلہ دیش کی وزیراعظم بن گئیں اور ملک میں ایک نئے جمہوری دور کا آغاز ہوا۔

شیخ حسینہ کا شمار دنیا کی انتہائی طاقتور خواتین میں ہوتا ہے۔ فوربز میگزین کی جانب سے مرتب کی جانے والی “دنیا کی 100 انتہائی طاقتور خواتین” کی فہرست میں 2018  میں ان کا نمبر 26 اور 2017 میں 30 رہا۔ موجودہ دہائی کے “ٹاپ 100 گلوبل تھنکرز” کی فہرست میں بھی اُن کا نام آ چکا ہے۔ شیخ حسینہ، موجودہ اور سابقہ خواتین صدور اور وزرائے اعظم کے بین الاقوامی نیٹ ورک کونسل آف ویمن ورلڈ لیڈرز  کی رکن بھی ہیں۔ 2018 میں ٹائم میگزین کی جانب سے “100 انتہائی بااثر افراد” میں بھی شیخ حسینہ کا نام شامل کیا گیا۔

بنگلہ دیش خواتین کی سیاسی شمولیت اور خودمختاری کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔ بطور وزیراعظم شیخ حسینہ کے موجودہ دور میں بنگلہ دیش کی قومی پارلیمنٹ میں 50 نشستیں خواتین کے پاس ہیں جبکہ 12 ہزار خواتین مقامی سیاسی عہدوں پر فائز ہیں۔ اس بناء پر یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق خواتین کی سیاسی خودمختاری کے لحاظ سے بنگلہ دیش دنیا میں ساتویں نمبر پر آتا ہے۔

The post شیخ حسینہ appeared first on WIE.

]]>
https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/sheikh-hasina/feed/ 0
آنگ سان سُو کائی https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/aung-san-suu-kyi/ https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/aung-san-suu-kyi/#respond Wed, 06 Jan 2021 11:29:17 +0000 https://pakvoter.org/wie/?p=5358 The post آنگ سان سُو کائی appeared first on WIE.

]]>

آنگ سان سُو کوئی اپنے ملک برما کے عوام کے لئے امید، عدم تشدد پر مبنی مزاحمت اور امن کی علامت ہیں اور عالمی سطح پر اُن کا شمار جمہوریت کے علمبرداروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے برما کو آزاد اور جمہوری ملک بنانے کے لئے فوجی حکومتوں کے خلاف انتھک جدوجہد کی اور 15 سال تک اپنے گھر میں نظربند رہیں۔ انہیں 2010 کے اواخر میں رہا کیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر اُن کی جدوجہد کے اعتراف میں انہیں نوبل امن انعام، یورپ کے ساخروف انعام اور امریکہ کے تمغہ آزادی سے نوازا جا چکا ہے۔

آنگ سان سُو کائی، 19 جون 1945 کو پیدا ہوئیں۔ وہ میانمر کی آزادی کے ہیرو جنرل آنگ سان کی بیٹی ہیں جنہیں اس وقت قتل کر دیا گیا جب آنگ سان سُو کائی کی عمر صرف دو سال تھی۔ کچھ عرصہ بعد ہی 1948 میں میانمر نے انگریز نوآبادیاتی راج سے آزادی حاصل کر لی۔ 1960 میں اُن کی والدہ ڈاء خِن کائی کو دہلی میں میانمر کی سفیر مقرر کیا گیا تو وہ بھی اُن کے ہمراہ بھارت چلی گئیں۔ چار سال بعد وہ برطانیہ کی اوکسفرڈ یونیورسٹی چلی گئیں جہاں انہوں نے فلسفے، سیاسیات اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔ 1972 میں انہوں نے میکائل آرس سے شادی کی۔

1988 میں آنگ سان سُو کوئی اپنی شدید بیماری کا شکار والدہ کی دیکھ بھال کے لئے رنگون (جس کا موجودہ نام ینگون ہے) واپس آئیں تو میانمر شدید سیاسی شورش کی لپیٹ میں تھا۔ ہزاروں طلبہ، دفتری کارکن اور بھکشو، جمہوری اصلاحات کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر سراپا احتجاج تھے۔ آنگ سان سُوکائی نے اُس وقت کے آمر، جنرل نی وِن کے خلاف تحریک کی قیادت سنبھال لی۔ آنگ سان نے پورے ملک کا سفر کیا اور مختلف علاقوں میں جلسے کئے جن میں انہوں نے پرامن جمہوری اصلاحات اور آزادانہ انتخابات کا مطالبہ اٹھایا۔

1989 سے 2010 کے دوران تقریباً 15 سال آنگ سان سُو کائی نظربند رہیں۔ فوج کے زیرِاقتدار میانمر (جسے برما بھی کہا جاتا ہے) میں جمہوریت کی خاطر اُن کی جدوجہد نے انہیں ظلم کے سامنے پرامن مزاحمت کی بین الاقوامی علامت بنا دیا۔

نومبر 2015 میں انہوں نے نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی قیادت کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیا  اور 25 سال میں پہلی بار میانمر میں ہونے والے ان آزادانہ انتخابات میں ان کی جماعت نے شاندار فتح حاصل کی۔

وہ میانمر کی سٹیٹ کونسلر ہیں۔ قانون ساز اسمبلی نے اُن کے لئے یہ نیا عہدہ تخلیق کیا اور برما کے صدر تِن کیاء نے اسے قانونی حیثیت دی۔یہ عہدہ وزیراعظم کے برابر ہے اور بعض صورتوں میں یہ صدر سے بھی زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے۔

The post آنگ سان سُو کائی appeared first on WIE.

]]>
https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/aung-san-suu-kyi/feed/ 0
چندریکا بندرانائیکے کماراٹنگا https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/chandrika-bandaranaike-kumaratunga/ https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/chandrika-bandaranaike-kumaratunga/#respond Fri, 18 Dec 2020 07:32:10 +0000 https://pakvoter.org/wie/ur/?p=4822 The post چندریکا بندرانائیکے کماراٹنگا appeared first on WIE.

]]>

چندریکا بندرانائیکے کماراٹنگا، 29 جون 1945 کو پیدا ہوئیں۔ وہ سری لنکا کی  خاتون سیاست دان ہیں جو ملک کی پانچویں صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ وہ 12 نومبر 1994 سے 19 نومبر 2005 تک اس عہدے پر فائز رہیں۔

چندریکا کماراٹنگا کو کئی اعزازات حاصل ہیں جن میں سب سے منفرد یہ ہے کہ تاحال وہ ملک کی واحد خاتون صدر ہیں۔ ان کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے ہے۔ وہ دو سابق وزرائے اعظم کی صاحبزادی ہیں اور 2005  کے آخر تک سری لنکا فریڈم پارٹی (ایس ایل ایف پی) کی رہنما بھی رہیں۔ 2015 میں انہیں قومی اتحاد و مفاہمت کے ادارے کی چیئرپرسن کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔

چندریکا کماراٹنگا نے 1994 میں 62.28 فیصد ووٹوں کی اکثریت کے ساتھ صدارتی انتخاب جیتا۔ نومبر 1994 میں سری لنکا کی پہلی خاتون صدر بننے پر انہوں نے وزیراعظم کے عہدے پر اپنی جانشینی کے لئے اپنی والدہ کو تعینات کیا۔

ان کے سیاسی کیریئر میں ایک اور مشکل موڑ اس وقت آیا جب 1999 میں تامل ٹائیگرز کی جانب سے قاتلانہ حملے میں ان کی دائیں آنکھ کی بصارت ضائع ہو گئی۔ اس بناء پر انہیں وقت سے پہلے صدارتی انتخابات کرانا پڑے۔ ایک بار پھر وہ 21 دسمبر 1999 کو منعقد ہونے والے انتخابات میں اپنے مخالف رانیل وکرماسنگھے کو شکست دے کر فاتح کے طور پر سامنے آئیں اور اگلے روز ہی انہوں نے ایک اور مدت کے لئے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

ان کے دوسرے دور اقتدار کا شمار ملک کے انتہائی کٹھن ادوار میں ہوتا ہے۔ اس دوران خانہ جنگی میں شدت آ گئی اور ان کی حکومت کو مشہور زمانہ ‘ایلیفنٹ پاس کی دوسری جنگ’ اور بندرانائیکے ایئرپورٹ حملے میں مخالفین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے نہ صرف ملک کی سیاسی صورتحال متاثر ہوئی بلکہ تاریخ میں پہلی بار ملکی معیشت بھی کساد بازاری کا شکار ہو گئی۔

2005 میں انگریزی جریدے ‘فوربز’ کی جانب سے ان کا نام “دنیا کی انتہائی طاقتور 100 خواتین” کی فہرست میں 25 ویں نمبر پر رکھا گیا۔

عہدہ صدارت چھوڑنے کے بعد وہ 2006  تک ایس ایل ایف پی کی رہنما کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں جس کے بعد انہوں نے عارضی طور پر پارٹی قیادت سے علیحدگی اختیار کر لی جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ “مہندا راج پاکسے کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا”۔ جلد ہی وہ ملک چھوڑ کر برطانیہ میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے لگیں۔

چندریکا کمارا ٹنگا، کونسل آف ویمن ورلڈ لیڈرز اور گلوبل لیڈرشپ فاؤنڈیشن کی رکن ہیں۔ نومبر 2009 میں انہیں کلب ڈی میڈرڈ کے 12 رکنی بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل کیا گیا۔ وہ کلنٹن گلوبل انیشئیٹو کی رکن ہیں اور  پینل رکن کے طور پر بڑے تواتر سے اس میں حصہ لیتی رہتی ہیں۔ وہ ہر سال ستمبر میں منعقد ہونے والے اس کے سالانہ اجلاس میں بطور مشیر بھی شرکت کرتی ہیں۔

The post چندریکا بندرانائیکے کماراٹنگا appeared first on WIE.

]]>
https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/chandrika-bandaranaike-kumaratunga/feed/ 0
خالدہ ضیاء https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/khaleda-zia/ https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/khaleda-zia/#respond Fri, 18 Dec 2020 07:12:35 +0000 https://pakvoter.org/wie/?p=4818 The post خالدہ ضیاء appeared first on WIE.

]]>

بیگم خالدہ ضیاء، پہلی بار 1991 سے 1996 تک اور دوبارہ 2001 سے 2006 تک بنگلہ دیش کی وزیراعظم کے طو رپر خدمات انجام دےچکی ہیں۔ وہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی اور مسلم دنیا کی دوسری (پاکستان کی بے نظیر بھٹو کے بعد) خاتون تھیں جنہوں نے ایک جمہوری حکومت کی قیادت کا فریضہ انجام دیا۔

خالدہ ضیاء کی پیدائش 1945 میں شمال مغربی بنگال کے علاقے دینجاپور میں ہوئی۔ 1960 میں ان کی شادی ضیاء الرحمان سے ہوئی۔ ان کے شوہر کا شمار بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے مایہ ناز ہیروز میں ہوتا ہے جو بعد میں جمہوریہ کے صدر بھی بنے اور اپریل 1977 میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی۔

خالدہ ضیاء، مارچ 1983 میں بی این پی کی وائس چیئرپرسن منتخب ہوئیں۔ اگست 1984 میں انہیں پارٹی چیئرپرسن کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔ 27فروری 1991 کو ہونے والے آزادانہ و منصفانہ عام انتخابات کے ذریعے خالدہ ضیاء ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئیں۔

1996 میں بی این پی کی شاندار فتح کی بدولت خالدہ ضیاء مسلسل دوسری بار  وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہو گئیں لیکن ہڑتالوں اور مظاہروں کی وجہ سے ایک ماہ بعد وہ مستعفی ہو گئیں۔

2001 میں ایک بار پھر خالدہ ضیاء، کرپشن اور دہشت گردی کے خاتمے کے وعدے کے ساتھ برسراقتدار آئیں۔ 2006 میں وہ اس عہدے سے سبکدوش ہو گئیں اور اقتدار نگران انتظامیہ کے سپرد کر دیا۔

اپنے دور اقتدار میں خالدہ ضیاء کی حکومت نے شعبہ تعلیم  میں نمایاں  پیشرفت دکھائی۔ ان کی زیرقیادت ملک میں مفت پرائمری تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا، لڑکیوں کے لئے دسویں جماعت تک تعلیم مفت کر دی گئی، طالبات کے لئے تعلیمی “مشاہرہ” مقرر کیا گیا، اور ‘خوراک برائے تعلیم’ کے پروگرام بھی شروع کئے گئے۔ ان کی حکومت نے  سرکاری ملازمت کے لئے عمر کی حد 27 سال سے بڑھا کر 30 سال کر دی اور شعبہ تعلیم کے لئے سب سے زیادہ رقوم مختص کیں۔ انہوں نے میدان سیاست میں خواتین کی شمولیت کے لئے بھی انقلابی اقدامات کئے اور پارلیمنٹ میں خواتین کی نشستوں کی تعداد بڑھا دی۔

The post خالدہ ضیاء appeared first on WIE.

]]>
https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/khaleda-zia/feed/ 0
کملا ہیرس https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/kamala-harris/ https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/kamala-harris/#respond Tue, 10 Nov 2020 07:18:29 +0000 https://pakvoter.org/wie/?p=4146 The post کملا ہیرس appeared first on WIE.

]]>

نائب صدر امریکہ

کملا ہیرس نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے اور اپنے ملک میں قیادت کے اس منصب تک جا پہنچی ہیں جو اس سے پہلے کبھی کسی خاتون کے حصے میں نہیں آیا۔ امریکی میدان سیاست کی اس مایہ ناز خاتون کی پیدائش اور پرورش امریکی ریاست کیلی فورنیا کے علاقے اوکلینڈ میں ہوئی۔ 2016 میں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے امریکی سینیٹ کی رکن منتخب ہوئیں جس کے ساتھ ہی اگلے سال سے انہوں نے اس اہم ترین ریاستی ادارے میں کیلی فورنیا کی نمائندہ کی حیثیت سے اپنی پہلی مدت کا آغاز کیا۔ کملا ہیرس، امریکی سینیٹ کی رکن کے طور پر خدمات انجام دینے والی دوسری افریقی امریکی خاتون اور پہلی بھارتی امریکی شہری ہیں۔ 2020 کے حالیہ امریکی انتخابات میں وہ جوء بائیڈن کی جانب سے ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر امریکہ کی نائب صدر منتخب ہو گئی ہیں۔

اس سے پہلے انہیں 2011 سے 2017 تک اپنی ریاست کی اٹارنی جنرل کے طو رپر خدمات انجام دینے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ کملہ ہیرس نے 1986 میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پولیٹکل سائنس اور معاشیات میں بی اے کیا اور 1989 میں ہیسٹنگز کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔

ان کے سابقہ کیریئر پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ 1990 سے 1998 تک وہ اوکلینڈ میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ لائیر کے طور پر کامیابی کے ساتھ خدمات انجام دیتی رہیں۔ اس دوران انہوں نے گینگ جرائم، منشیات کی سمگلنگ، اور جنسی حملوں کے مقدمات پر دلیری سے کام کرتے ہوئے خاصی شہرت حاصل کی۔ \

وقت کے ساتھ ساتھ کملا ہیرس ترقی کی منازل طے کرتی رہیں اور 2004 میں ڈسٹرکٹ اٹارنی بن گئیں۔ 2010 میں وہ ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد محض 1 فیصد سے بھی کم برتری کے ساتھ کیلی فورنیا کی اٹارنی جنرل منتخب ہوئیں اور یوں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام امریکی بن گئیں۔

یہ اہم عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی آزادی کا مظاہرہ کیا اور بعض ایسے واقعات بھی پیش آئے جن میں انہوں نے امریکی صدر اور حکومت کی جانب سے مداخلت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ مثلاً مارگیج لیڈروں کے خلاف قومی مقدمے میں باراک اوباما کی غیرمنصفانہ کارروائیوں پر تصفیہ کے بجائے انہوں نے اس مقدمے پر کیلی فورنیا میں ہی کارروائی آگے بڑھائی اور 2012 میں جس رقم پر تصفیہ ہوا تھا، اس کی نسبت پانچ گنا زیادہ پر فیصلہ کرانے میں کامیاب رہیں۔

جنوری 2017 میں سینیٹ میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ دیگر فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس کی سلیکٹ کمیٹی اور عدلیہ کمیٹی کی رکن کے طور پر بھی فرائض انجام دیتی رہیں۔ اس دوران جو سماعتیں ہوئیں ان کے سلسلے میں گواہان کے انٹرویو کرتے ہوئے کملا ہیرس نے پیشہ وکالت سے حاصل ہونے والے تجربے کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور  منفرد انداز میں جرح کی وجہ سے بعض مواقع پر انہیں ریپبلیکن سینیٹرز کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا، یہاں تک کہ وقفے وقفے سے ان میں تعطل بھی آتا رہا۔ جنوری 2019 میں کملا ہیرس نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب The Truths We Hold: An American Journey شائع کی۔

حقوق نسواں کے میدان میں کملا ہیرس ایک مثالی کردار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نائب صدر کے انتخابی مباحثوں کے دوران انہوں نے لڑکیوں کے سامنے اس بات کی عملی تعبیر پیش کی کہ معاملات پر اپنی گرفت کس طرح مضبوط رکھنا ہے، اپنی طاقت کا اظہار کیسے کرنا ہے اور اپنے موقف پر کس طرح قائم رہنا ہے۔ سی این این کے مطابق انہوں نے غیرسفید فام بچوں میں ایک نیا احساس پیدا کر دیا ہے جس کی بدولت اب وہ بھی سوچنے لگے ہیں کہ وہ یعنی غیرسفید فام بھی امریکہ کے عہدہ صدارت کے امیدوار بن سکتے ہیں۔

The post کملا ہیرس appeared first on WIE.

]]>
https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/kamala-harris/feed/ 0
اینگلا مرکل https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/angela-merkel/ https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/angela-merkel/#respond Thu, 05 Nov 2020 07:22:19 +0000 https://pakvoter.org/wie/?p=4063 The post اینگلا مرکل appeared first on WIE.

]]>

جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر، اینگلا مرکل، جولائی 1945 میں مغربی جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پیدا ہوئیں۔ 1973 میں انہوں نے ٹیمپلین سے ہائی سکول کی تعلیم مکمل کی جس کے بعد وہ فزکس کی تعلیم کے لئے لیپزنگ چلی گئیں۔ ڈپلومہ حاصل کرنے کے بعد وہ مشرقی برلن کی اکیڈمی آف سائنس کے سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل کیمسٹری میں اکیڈمک فیکلٹی کی رکن کے طور پر کام کرنے لگیں۔ 1986 میں اینگلا مرکل کو ‘کوانٹم کیمسٹری’  پر ان کا تھیسس مکمل ہونے پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا گیا۔ اس دوران وہ ریاست کی نوجوان تنظیموں کی سرگرمیوں بھی حصہ لیتی رہیں اور 1962 میں یوتھ پائنیرز کی رکن بنیں جبکہ 1968 میں فری جرمن یوتھ میں بھی شامل ہوئیں۔ فری جرمن یوتھ کے ساتھ ان کے تعلق کی  بناء پر ان کے بارے میں متنازعہ بحث بھی ہوتی رہی ہے کہ وہ انسٹی ٹیوٹ میں احتجاج اور پروپیگنڈہ کی سیکرٹری کے طور پر فعال رہیں، البتہ اینگلا مرکل کا کہنا ہے کہ وہ ثقافتی امور کی ذمہ دار تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے سوشلسٹ یونین پارٹی کی رکنیت کے لئے درخواست دی ،نہ وزارت سٹیٹ سکیورٹی کے عملہ کی جانب سے دی گئی کسی پیشکش کو قبول کیا۔

1981 میں دیوار برلن کے انہدام کے بعد جمہوری بیداری پارٹی، ‘ڈیموکریٹک اویکننگ’  وجود میں آئی تو اینگلا مرکل نے بھی اس میں شمولیت اختیار کر لی۔ 1990 میں وہ پارٹی کی پریس ترجمان بن گئیں اور بعد ازاں حکومت کی نائب ترجمان کے عہدے پرفائز ہوئیں۔ اینگلا مرکل نے سٹراسلنڈ – روجین گریمین کی نمائندہ کے طور پر پارلیمنٹ کے ایوان زیریں،’ بنڈیسٹیگ’ میں نشست بھی جیتی۔ جنوری 1991 میں انہیں چانسلر ہیلمٹ کول کی جانب سے خواتین اور نوجوانوں کی وزیر مقرر کیا گیا۔ ہیلمٹ کول کی جانب سے میدانِ سیاست کی اس نووارد نوجوان خاتون کے انتخاب کو آبادی کے کئی مختلف طبقات میں پذیرائی ملی اور اسی وجہ سے وہ “کول کی لڑکی” (کولز گرل) کے نام سے مشہور ہونے لگیں۔ ستمبر 1992 میں چیئرمین سی ڈی یو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور ان کی جگہ اینگلا مرکل منتخب ہو گئیں۔ 1994 میں وہ انوائرمنٹ، کنزرویشن اینڈ ری ایکٹر سیفٹی کی وزیر بنیں اور 1995 میں انہوں نے برلن میں ہونے والی اقوامِ متحدہ کی پہلی ‘کلائمیٹ کانفرنس’ کی صدارت کی۔ اینگلا مرکل کو سی ڈی یو کی سیکرٹری جنرل کے طور پر منتخب کیا گیا جس کے بعد 2000 میں وہ سی ڈی یو کی سربراہ منتخب ہو گئیں۔ وہ نہ صرف پارٹی کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون تھیں بلکہ پارٹی کی پہلی رہنما بھی تھیں جن کا تعلق کیتھولک مذہب سے نہیں تھا۔ اس عہدے پر انہیں خزانہ سکینڈل اور تقسیم شدہ پارٹی کے دیرینہ اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ نومبر 2005 میں وہ 51 سال کی عمر میں جرمنی کی پہلی خاتون اور اب تک کی کم عمر ترین چانسلر بھی بن گئیں۔ وہ اب چوتھی بار اس عہدے پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ 2018 میں اینگلا مرکل، کرسچن ڈیموکریٹک یونین کی لیڈر کے عہدے سے سبکدوش ہو گئیں اور انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ 2021 میں اگلی مدت کے لئے چانسلر کی امیدوار نہیں بنیں گی۔

اینگلا مرکل نے جرمنی کو معاشی بحران سے نکال کر واپس ترقی و افزائش کی راہ پر ڈالا اور آج وہ نہ صرف یورپ کی سب سے بڑی معیشت کی قیادت کر رہی ہیں، بلکہ عملی طور پر وہ پورے یورپ کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ ان کا آہنی عزم ان کی قیادت کا اہم ترین خاصہ ہے جس کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے دس لاکھ سے زائد شامی پناہ گزینوں کو جرمنی میں رہنے کی اجازت دی۔ اس وقت اینگلا مرکل ایک ایسی اتحادی حکومت کی قیادت کر رہی ہیں جو رائے دہندگان میں غیرمقبول ہے، جسے ‘بریگزٹ’ اور یورپ میں بڑھتے ہوئے امیگرنٹس مخالف جذبات کے ہاتھوں مسلسل بحرانوں کا سامنا ہے۔

The post اینگلا مرکل appeared first on WIE.

]]>
https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/angela-merkel/feed/ 0
کونڈولیزا رائس https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/condoleezza-rice/ https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/condoleezza-rice/#respond Thu, 05 Nov 2020 07:13:35 +0000 https://pakvoter.org/wie/?p=4057 The post کونڈولیزا رائس appeared first on WIE.

]]>

سیاہ فام امریکی خاتون ہونے کے ناطے، کونڈولیزا رائس کو،  کئی بڑے بڑے کام پہلی بار کر دکھانے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ وہ صرف ایک سیاست دان ہی نہیں بلکہ ایک مصنفہ اور معلمہ بھی ہیں جنہوں نے نسل پرستی کی تمام  بندشوں کو توڑ کر امریکہ کی مرکزی سیاست میں اپنی ایک جگہ بنائی اور بھرپور سیاسی شمولیت کے ذریعے فیصلہ سازی میں خواتین کے وسیع تر موقف کو عمدہ طریقے سے پیش کیا۔

کونڈولیزا رائس، پہلی سیاہ فام خاتون ہیں جنہوں نے امریکہ کی مشیر قومی سلامتی کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ (سیکرٹری آف سٹیٹ) کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ پہلی خاتون اور پہلی افریقی امریکی شہری ہیں جو سٹینفرڈ یونیورسٹی کی پروووسٹ بنیں۔ ایک افریقی امریکی خاتون کے لئے پہلی بار یہ اعزازات حاصل کرنا کسی لحاظ طرح سے معمولی بات نہ تھی جس کے پیچھے ایک طویل جدوجہد کارفرما تھی۔ کونڈولیزا رائس، 1954 میں پیدا ہوئیں اور ان کی پرورش نسل پرستی میں گھرے ماحول میں ہوئی۔ پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد 1981 میں انہوں نے سٹینفرڈ یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کی پروفیسر کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ 1993 میں وہ سٹینفرڈ یونیورسٹی کی پروووسٹ کے عہدے پر تعینات ہونے والی پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام امریکی شہری بن گئیں اور چھ سال تک یہ خدمات انجام دیتی رہیں۔ اس دوران انہوں نے یونیورسٹی کی چیف بجٹ اور اکیڈمک آفیسر کے طور پر بھی فرائض انجام دئیے۔

کونڈولیزا رائس نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1980 کی دہائی میں کیا جس کے دوران انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے ساتھ انٹرنیشنل افیئرز فیلو کے طور پر کافی عرصہ گزارا۔ 1989 میں وہ قومی سلامتی کونسل میں سوویت و مشرقی یورپ کے امور کی ڈائریکٹر اور سوویت یونین کی تحلیل اور جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے دوران صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کی خصوصی معاون رہیں۔ 1997 میں وہ فوج میں “جنڈر انٹیگریٹڈ ٹریننگ” پر وفاقی مشاورتی کمیٹی میں خدمات انجام دیتی رہیں۔ 1997 میں صدر جارج ڈبلیو بش نے کونڈولیزا رائس کو قومی سلامتی کی مشیر بنا دیا اور یوں وہ اس عہدے پرفائز ہونے والی نہ صرف پہلی خاتون بلکہ پہلی افریقی امریکی شہری بھی بن گئیں۔ اس کے بعد وہ امریکی وزیر خارجہ کے عہدے پر تعینات ہونے والی پہلی افریقی امریکی خاتون بھی بنیں جنہیں 2004 میں کولن پاول کے استعفے کے بعد امریکہ کی 66 ویں وزیر خارجہ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہ 2005 سے 2009 تک اس عہدے پر خدمات انجام دیتی رہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے کونڈولیزا رائس نے “تغیر پذیر سفارت کاری” کو اپنے محکمے کا نصب العین بناتے ہوئے جمہوریت کی تعمیر و پائیداری، دنیا بھر اور بالخصوص مشرق وسطیٰ میں عمدہ طرزحکمرانی پر مبنی ریاستوں کے قیام پر کام کیا۔

سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر، وہ مختلف کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ ان کی چند کتابوں کے نام یہ ہیں:

Germany Unified and Europe Transformed – جو انہوں نے 1995 میں فلپ زیلیکوف کے ساتھ مل کر تحریر کی۔

The Gorbachev Era – جو انہوں نے الیگزینڈر ڈالن کے ساتھ مل کر  1986 میں لکھی۔

Uncertain Allegiance: The Soviet Union and the Czechoslovak Army – جو انہوں نے 1984 میں تحریر کی۔

کونڈولیزا  رائس کی اپنی نظر میں وہ محض ایک سیاست دان  نہیں، بلکہ ایک معلمہ ہیں جس کی جھلک ان کی تقریروں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ فلوریڈا کے علاقے ٹامپا میں ریپبلیکن نیشنل کنونشن کے موقع پر کی گئی ان کی ایک تقریر سے تعلیم کے ساتھ ان کی گہری وابستگی کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ، “میں واپس سٹینفرڈ یونیورسٹی جاؤں گی اور بخوشی اس کی فیکلٹی ممبر بن جاؤں گی۔ اور ظاہر ہے، میں اس ٹکٹ کی مدد کے لئے جو کچھ کر سکتی ہوں، وہ کروں گی۔ لیکن میری زندگی پالو آلٹو میں ہے۔ میرا مستقبل میرے سٹینفرڈ کے طلبہ اور عوامی خدمات کے وہ امور ہیں جو میرے نزدیک اہمیت کے حامل ہیں، جیسے تعلیمی اصلاحات”۔

The post کونڈولیزا رائس appeared first on WIE.

]]>
https://pakvoter.org/wie/ur/women-leaders/condoleezza-rice/feed/ 0