Political Milestones


Saturday, 28 Apr

Highest Votes Received سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا ریکارڈ

Mohtarma Benazir Bhutto also holds the distinct record of receiving the highest percentage of the polled votes in any general elections of the national history. She received 98.48% votes in the 1990 General Elections.

محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک منفرد اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ انہوں نے ملکی تاریخ کے کسی بھی عام انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں میں سب سے زیادہ فیصد ووٹ حاصل کئے۔ 1990 کے عام انتخابات میں انہیں 98.48 فیصد ووٹ ملے۔

Friday, 28 Apr

Women Parliamentarians’ Conference خواتین ارکان پارلیمنٹ کی کانفرنس

Pakistan hosted the first Muslim Women Parliamentarians’ Conference in 1995.

پاکستان کو 1995 میں پہلی مسلم خواتین ارکان پارلیمنٹ کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

Sunday, 28 Apr

First elected Woman MNA from Balochistan بلوچستان سے پہلی منتخب خاتون ایم این اے

Ms Zubaida Jalal is the only woman who has ever won a National Assembly seat from a general constituency from the remote province of Baluchistan.

محترمہ زبیدہ جلال واحد خاتون ہیں جنہوں نے بلوچستان کے دورافتادہ صوبے کی جنرل نشست سے قومی اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

Sunday, 28 Apr

Reserve Seats for Women in Senate سینیٹ میں خواتین کی مخصوص نشستیں

The Senate, elected after 2002 General Elections, was the first Upper House to have Women Members on Reserved Seats.

2002 کے عام انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین ارکان بھی شامل تھیں۔

Monday, 18 Feb

First Woman Speaker Assembly پہلی خاتون سپیکر اسمبلی

History was again created in 2008, when as a result of February 18 General Elections, Dr Fehmida Mirza became the first woman in Pakistan’s history to be elected as the Speaker of the National Assembly. She’s also the first woman Speaker in the Muslim World.

2008 میں ایک بار پھر تاریخ رقم ہوئی جب 18 فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ملکی تاریخ کی پہلی خاتون کے طور پر سامنے آئیں جنہیں قومی اسمبلی کی سپیکر کے عہدے کے لئے منتخب کیا گیا۔ وہ مسلم دنیا کی بھی پہلی خاتون سپیکر ہیں۔

Thursday, 27 Apr

Election Act 2017 الیکشن ایکٹ

According to section 206 of the Elections Act 2017, political parties are bound to issue 5% general seat tickets to the women.

الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 206 کی رو سے، سیاسی جماعتیں جنرل نشستوں کی 5 فیصد ٹکٹیں خواتین کو دینے کی پابند ہیں۔

Monday, 08 May

2017- Increased Women Participation – خواتین کی شمولیت میں اضافہ

Section 9 of the Election Act 2017 indicates that if the “turnout of women voters is less than ten percent of the total votes polled in a constituency”, the ECP can presume that women were restrained from voting and declare the results of the constituency or some of its polling stations as null and void.

الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 9 کی رو سے، اگر “خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ، انتخابی حلقے میں ڈالے گئے کل ووٹوں کے دس فیصد سے کم ہو”  تو الیکشن کمیشن یہ فرض کر سکتا ہے کہ خواتین ووٹرز کو ووٹ دینے سے روکا گیا  اور وہ اس انتخابی حلقے یا اس کے بعض پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کو منسوخ اور کالعدم قرار دے سکتا ہے۔

Skip to content